ط
ایسے کہنا نہیں چاہیے، مگر ہماری کلاس کا سب سے بے وقوف بچہ ط تھا۔
ط اتنا بونگا تھا کہ مجھے شک ہے کہ وہ اب زندہ بھی نہیں۔ ممکن ہے وہ غلط سمت دیکھتے ہوئے سڑک پار کرتا ہوا مر گیا ہو۔ کاش میں غلط ہوں۔ کاش ط ہم سب سے پہلے بٹ کوائن میں سرمایہ کاری کر چکا ہو اور آج ہم سب کے بارے میں اسی طرح ہنس رہا ہو، جس طرح ہم ط کے قصے سنا کر ہنسا کرتے تھے۔
یہ تیسری جماعت کی بات ہے — ۱۹۹۳۔
اردو کا پیریڈ تھا اور ہمیں الفاظ سے جملے بنانے تھے۔ لفظ آیا "حیوان" تو سب نے ہاتھ کھڑا کر دیا۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ ط نے بھی ہاتھ کھڑا کر دیا۔
استانی نے سب کو چھوڑ کر ط کو چنا — کیوں کہ وہ پھدک رہا تھا، اور پہلے ہاتھ صرف غسل خانے جانے کے لیے اوپر کرتا تھا۔
اپنا نام سن کر ط چھلانگ مار کر کھڑا ہوا اور بغیر کسی جھجک کے جملہ بولا:
"میں ایک حیوان ہوں۔"
یہ سن کر پوری کلاس گر پڑی، اور اگلے تین سال تک ط کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔
تین سال بعد، سال ۱۹۹۶ میں، اردو کا پیریڈ آیا — مگر اب ہم الفاظ سے ترقی کر کے محاوروں تک پہنچ چکے تھے۔ محاورہ آیا: "پانی پانی ہو جانا"۔
تین سال بعد ط نے دوبارہ ہمت کر کے ہاتھ کھڑا کیا۔
استانی نے دلچسپی اور تجسس کے ساتھ، سب کو چھوڑ کر ط کو منتخب کر لیا۔
ط نے ساری پرانی شرمندگیاں بھلا کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا:
"میرے ابو جب نہا کر نکلے، تو پانی پانی ہو گئے۔"